جب تک جارحیت جاری ہے ہم اپنا دفاع بھی جاری رکھیں گے: اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر کا اعلان
اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر نے اس عالمی ادارے کے رکن ایک خود مختار ملک کے اعلی ترین عہدیدار کو شہید کرنے کے اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور حکومتوں کی برابری کے اصول پر براہ راست حملہ قرار دیا اور کہا کہ یہ طرزعمل پورے بین الاقوامی نظام کو خطرے میں ڈالتا ہے۔
سحرنیوز/ایران: امیر سعید ایروانی نے کہا کہ امریکا اور اسرائيلی حکومت نے عمدا عام شہریوں، غیر فوجی بنیادی ڈھانچوں، اسکولوں، اسپتالوں، ہلال احمر کے مراکز اور رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا ہے۔
انھوں نے کہا کہ امریکا اور صیہونی حکومت نے اپنی جارحیت کے پہلے ہی دن ایران کے شہر میناب میں گرلس اسکول پر حملہ کیا جس میں 165 اسکولی بچیاں شہید ہوگئيں اور اسی دن صوبہ قزوین کے علاقے آبیک میں ایک اسکول پر بھی حملہ کیا۔
اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر نے کہا کہ یہ سبھی جارحانہ اقدامات جنگی اور انسانیت کے خلاف جرائم ہیں جن پر اقوام متحدہ خاموشی نہیں اختیار کرسکتا۔
امیر سعید ایروانی نے کہا کہ اس حملے کی کوئی قانونی توجیہ نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ ایران اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 51 کے مطابق اپنے دفاع کا قانونی حق استعمال کررہا ہے اور ہمارے جوابی حملے، قانونی ، ضروری اور مناسب ہیں۔
ہمیں فالو کریں:
Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر نے کہا کہ ہم دشمنوں کے صرف فوجی مراکز اور ٹھکانوں کو نشانہ بنارہے ہیں، غیر فوجیوں اور پڑوسی ملکوں کے مفادات پر حملہ نہیں کررہے ہیں۔